مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے متعدد امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے جنوبی جزیرے قشم پر حملہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ واشنگٹن نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھی ایران کے خلاف محدود پیمانے پر حملے کیے ہیں۔
رپورٹ میں امریکی حکام نے ان حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں سے تجارتی بحری جہازوں کو بچانا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے دعوی کیا کہ امریکی حکومت خطے میں تعینات اپنے فوجی اہلکاروں کو درپیش خطرات سے مسلسل نمٹ رہی ہے۔
اسی طرح امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے ایک نامعلوم امریکی عہدیدار نے بھی ایران کے بعض علاقوں پر امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں دفاعی کارروائیاں قرار دیا۔ اس عہدیدار کے مطابق، امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بعض ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی ٹی وی نیٹ ورک نیوز نیشن نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے جزیرہ قشم پر حملوں کے دوران ریڈار آلات اور میزائل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنایا۔
اس نیٹ ورک نے ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے مزید دعویٰ کیا کہ یہ حملہ ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں کے خلاف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کے ردعمل میں کیا گیا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ امریکہ نے جنوبی ایران پر حملہ کرنے کے لیے جنگی طیارے کا استعمال کیا۔ عہدیدار نے اس کارروائی کو اپنے دفاع سے تعبیر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ امریکی طیارے نے جزیرہ قشم میں ایک میزائل لانچر کو تباہ کیا۔
اس امریکی عہدیدار نے مزید دعوی کیا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے گزشتہ روز جزیرہ قشم سے آبنائے ہرمز میں موجود ایک امریکی جنگی طیارے کی جانب میزائل فائر کیا تھا۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این نے بھی ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ امریکی فوج نے اپنے بقول دفاعی کارروائی کے تحت ایران کے جزیرہ قشم پر محدود حملے کیے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی میڈیا کے ان دعوؤں کے باوجود اب تک ایران کے سرکاری اور فوجی حکام کی جانب سے ان حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آپ کا تبصرہ